ابنا: عالمي تجارتي ادارے کے سربراہ پاسکل لامي اور يورپي بينک کے تعمير نو کے شعبے کے سربراہ جيک اٹالي نے يورو زون کے ممالک ميں قرض کے بحران سے نمٹنے کے ليے يورپي ملکوں کے درميان مزيد يکجہتي کا مطالبہ کيا ہے- دونوں عہديداروں نے کہا ہے کہ اگر يورو زون کے ممالک اپني سياسي يکجہتي کو مزيد مضبوط نہيں بنائيں گے تو اگلے مہينوں اور برسوں ميں يورپ ميں شديد سياسي اور سماجي بحران سامنے آ سکتے ہيں- انہوں نے کہا ہے کہ يورو زون کي بقا، اس علاقے کے ممالک کے ليے ايک خصوصي بجٹ کو مختص کيے جانےاور اقتصادي مينيجمنٹ کو بہتر بنانے پر منحصر ہے- لامي اور اٹالي نے اسي طرح يورو زون کے صنعتي اور بنيادي منصوبوں ميں سرمايہ کاري کے ليے ضروري ايک سو اٹھائيس ارب يورو کے بجٹ کو پورا کرنے کے ليے کريڈٹ بانڈاور شيئر سرٹيفکٹ جاري کيے جانے کو ايک مناسب راستہ بتايا ہے-
يہ انتباہ، فرانس ميں بر سر اقتدار جماعت کے صدر نکولس سرکوزي کے صدارتي انتخابات ميں شکست کھانے کے کچھ ہي دن بعد سامنے آئے ہيں جن سے پتہ چلتا ہے کہ يورپي يونين کے حکام، يورو زون کے علاقے ميں بحران کو کنٹرول کرنے کے طريقوں کے مستقبل کے سلسلے ميں کس حد تک تشويش ميں مبتلا ہيں-
يورپي يونين کے سربراہ، اپنے اختلافات کے باعث اب تک يورو زون کے علاقے کے بحران کو حل کرنے کے ليے کوئي راستہ تلاش نہيں کر پائے ہيں اور آگے بھي فرانس کے نئے صدر فرانسوا اولينڈ کي جانب سے بعض قوانين پر نظر ثاني کيے جانے کے مطالبے کے سبب، اس علاقے کے بحران کے حل کا مستقبل روشن نہيں ہے- يورپي يونين کے رکن ملکوں کے سربراہوں نے اس بحران کے حل کے ليے گزشتہ تين برسوں ميں متعدد اجلاس منعقد کيے ہيں، تاہم در حقيقت بعض ممالک بالخصوص برطانيہ کي جانب سے بحران کے کنٹرول کے ليے بجٹ مخصوص کيے جانے کے وعدے کي خلاف ورزي کے سبب، يورپي يونين کا اقتصادي بحران جوں کا توں باقي ہے-
بعض تجزيہ نگاروں کا خيال ہے کہ يورپ کي بحران زدہ حکومتوں نے اب تک اس بات کي کوشش کي ہے کہ يورپي يونين اور آئي ايم ايف کي شرطوں پر عمل کريں تاہم يورپي يونين مسلسل نئي شرطيں پيش کر رہي ہے- مثال کے طور پر يونان ميں قرض کا بحران شروع ہونے کے وقت سے ہي اس ملک کے حکام نے کوشش کي ہے کہ قرض کے حصول کے ليے يورپي يونين کي شرطوں کو قبول کر ليں جبکہ ان شرطوں کو قبول کرنے کے سبب يونان کي حکومت اور عوام پر بہت زيادہ دباؤ پڑا ہے تاہم يورپي يونين، مرکزي بينک اور آئي ايم ايف پر مشتمل قرض دينے والے ٹروئيکا نے يونان کو نجات دلانے سے زيادہ اپنے مفادات کي تکميل کي کوشش کي ہے-
........
/169